25 اگست 2013 - 19:30
خواتین کوحق رائے دہی سے محروم کرنے پر پشاور ہائی کورٹ برہم

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان نے کہا ہے کہ خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا ان کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

ابنا: خواتین کو اپنی کنیزیں سمجھنے والوں کو اپنی غلامانہ ذہنیت بدلنا ہو گی۔ضمنی انتخابات میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دینے کے ازخودنوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس دوست محمد خان نے کہا کہ نوشہرہ اور لکی مروت میں خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت نہ دینا خواتین کے حقوق پر ڈاکہ ہے۔ حکومت ایسا قانون بنائے کہ جس حلقے میں خواتین کے ووٹ نہ کاسٹ کئے جائیں وہاں انتخابات منسوخ تصور ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے ٹی وی پر واقعے کی خبردیکھ کر از خود نوٹس لیا لیکن اس کے باوجود خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا گیا۔ چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے والوں کو اب روایات یاد آ گئی ہیں۔

.......

/169